پسِ آواز بھی اک حشر برپا ہے ، اگر دیکھیں
وگرنہ آپ کی تو دوڑ ہے مفہوم کی حد تک
Related posts
-
یزدانی جالندھری
دل بھی لوح و قلم کا ہمسر ہے داستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم -
اقبال عظیم
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا مری آنکھ کیسے چھلک... -
حمایت علی شاعر
ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺁﻣﺎﺟﮕﮧِ ﺣﺴﻦ ﮨﮯ ﺷﺎﻋﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺫﺭﺍ ﺣﺠلۂ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﮯ
